My Contact Message Follow Me!

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

Mohsin Naqvi poetry in Urdu, here you can read the best collection of Naqvi's Shayari which you can copy paste and share.


Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

Mohsin Naqvi poetry in Urdu, Mohsin Raza Naqvi is a unique and deep literary gem. His verses beautifully blend emotion and intellect, creating a mesmerizing tapestry of words. Naqvi's poetry delves deep into the complexities of life, exploring the realms of love, longing, spirituality and human existence. With a delicate balance of pictorial and lyrical beauty, his words touch the depths of the soul and leave a lasting impression on the reader.

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

دکھ ہی ایسا تھا کہ محسنؔ ہوا گم سم ورنہ
غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

جس کو طوفان سے الجھنے کی عادت ہو محسن
ایسی کشتی کو سمندر بھی دعا دیتا ہے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسن تم بھی گھر جایا کرو۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

تمہیں خبر ہی نہیں کے کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

الجھا رہی ہے مجھ کو یہی کشمکش مسلسل محسن
وہ آ بسا ہے مجھ میں یا میں اس میں کھو گیا ہوں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ملا تو اور بھی تقسیم کر گیا مجھ کو
سمیٹنا تھی جسے میری کرچیاں محسن۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

انکار کی سی لذت ، اقرار میں کہاں ہے
بڑھتا ہے عشق محسن ان کی نہیں نہیں سے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں كے یہ کتبے بھی پڑھا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی كے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر۔

Mohsin Naqvi Sad Poetry 2 lines

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

جب چلے تو تنہا تھے سفر میں محسن
پِھر تم ملے غم ملے تنہائی ملی قافلہ سا بن گیا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

تیرے قریب بھی رہ کر تجھے تلاش کروں
محبتوں میں میری بد حواسیاں نہ گئیں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

عجیب طرح سے دونوں ناكام ہوئے محسن
وہ مجھے چاہ نہ سکا اور میں اسے بھلا نہ سکا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

یاد کر كے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہو گی
اک قصہ ہوں پرانا سا بھلا دے مجھ کو۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ہم دونوں کا دکھ تھا ایک جیسا
احساس مگر جدا جدا تھا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

شمار اُسکی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرِتا ہے چھین کر آنکھیں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

اے زندگی تو ہی بتا کیسے تجھ سے پیار کروں میں
تیری ہر سانس میری عمر گھٹا دیتی ہے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

کس لیے محسن کسی بے مہر کو اپنا کہوں
دل کے شیشے کو کسی پتّھر سے کیوں ٹکراؤں میں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد
ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر۔

Mohsin Naqvi Romantic Poetry

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ایک قیامت کی خراشیں تیرے سر پہ سجیں
ایک محشر میرے اندر سے اٹھا تیرے بعد۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

یہاں مزدور کو مرنے کی جلدی یوں بھی ہے محسن
کہ زندگی کی کشمکش میں کفن مہنگا نہ ہو جائے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

اب کے بارش میں تو یہ کارِ زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

میں تیرے ملنے کو معجزہ کہہ رہا تھا لیکن
تیرے بچھڑنے کا سانحہ بھی کمال گزرا۔

Mohsin Naqvi Poetry

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں كے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

الجھا رہی ہے مجھ کو یہی کشمکش مسلسل محسن
وہ آبسا ہے مجھ میں یا میں اس میں کھو گیا ہوں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

آتا ہے کون کون میرے غم کو بانٹنے
محسن تو میری موت کی افواہ اڑا کے دیکھ۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ہَم سے بے وفائی کی انتہا کیا پوچھتے ہو محسن
وہ ہَم سے پیار سیکھتا رہا کسی اور كے لیے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

اب یہ سوچا ہے اپنی ذات میں رہیں گے محسن
بہت دیکھ لیا لوگوں سے شناسائی کرکے۔

Mohsin Naqvi Ghazal

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا

صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیں
مفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا

میرے حال پہ حیرت کیسی درد کے تنہا موسم میں
پتھر بھی رو پڑتے ہیں انسان تو پھر انسان ہوا

اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے
جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ہوا

کل تک جس کے گرد تھا رقصاں اک انبوہ ستاروں کا
آج اسی کو تنہا پا کر میں تو بہت حیران ہوا

اس کے زخم چھپا کر رکھیے خود اس شخص کی نظروں سے
اس سے کیسا شکوہ کیجے وہ تو ابھی نادان ہوا

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

یوں بھی کم آمیز تھا محسنؔ وہ اس شہر کے لوگوں میں
لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ہوا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا

یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا

ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا

وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا

اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا

تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی
زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا

بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری
میں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا

بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ
اس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو

کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو
کہا تھا کِس نے، کہ مسکراؤ! اُداس لوگو

گُزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں
کِواڑ کھولو ، دئیے بُجھاؤ! اُداس لوگو

جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی
وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اُداس لوگو

کہاں تلک، بام و در چراغاں کیے رکھو گے
بِچھڑنے والوں کو، بھول جاؤ! اُداس لوگو

اُجاڑ جنگل ، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں
یہیں کہیں بستیاں بساؤ! اُداس لوگو

یہ کِس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا
یہ کِس نے آواز دی، کہ آؤ! اُداس لوگو

یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے
سرِ سناں، کوئی سر سجاؤ! اُداس لوگو

اُسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی
کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاؤ! اُداس لوگو۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد

ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟

جس آنکھ میں کوئی چہرہ نہ کوئی عکس طلب
وہ آنکھ جل کے بجھے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟

ہجوم درد میں کیا مسکرایئے کہ یہاں
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟

ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رکے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر 

سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا 
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر 

شب فراق مری آنکھ کو تھکن سے بچا 
کہ نیند وار نہ کر دے تری سہیلی پر 

وہ بے وفا تھا تو پھر اتنا مہرباں کیوں تھا 
بچھڑ کے اس سے میں سوچوں اسی پہیلی پر 

جلا نہ گھر کا اندھیرا چراغ سے محسنؔ 
ستم نہ کر مری جاں اپنے یار بیلی پر۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں 

مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے 
میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں 

مجھے میرے سوا سب لوگ سمجھیں 
میں اپنے آپ سے کم بولتا ہوں 

ستاروں سے حسد کی انتہا ہے 
میں قبروں پر چراغاں کر رہا ہوں 

سنبھل کر اب ہواؤں سے الجھنا 
میں تجھ سے پیشتر بجھنے لگا ہوں 

مری قربت سے کیوں خائف ہے دنیا 
سمندر ہوں میں خود میں گونجتا ہوں 

مجھے کب تک سمیٹے گا وہ محسنؔ 
میں اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہوں۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے 
مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے

تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا 
ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے

وہ مجھ کو ٹوٹ کے چاہے گا چھوڑ جائے گا 
مجھے خبر تھی اسے یہ ہنر بھی آتا ہے

اجاڑ بن میں اترتا ہے ایک جگنو بھی 
ہوا کے ساتھ کوئی ہم سفر بھی آتا ہے

وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا 
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

جہاں لہو کے سمندر کی حد ٹھہرتی ہے 
وہیں جزیرۂ لعل و گہر بھی آتا ہے

چلے جو ذکر فرشتوں کی پارسائی کا 
تو زیر بحث مقام بشر بھی آتا ہے

ابھی سناں کو سنبھالے رہیں عدو میرے 
کہ ان صفوں میں کہیں میرا سر بھی آتا ہے

کبھی کبھی مجھے ملنے بلندیوں سے کوئی 
شعاع صبح کی صورت اتر بھی آتا ہے

اسی لیے میں کسی شب نہ سو سکا محسنؔ 
وہ ماہتاب کبھی بام پر بھی آتا ہے۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی 
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا 
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو 
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص 
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا 
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں 
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید 
سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل 
درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی۔

Mohsin Naqvi Poetry in Urdu

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں 
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں

پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا 
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں

خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی 
کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن 
کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں

اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا 
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں 
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں

میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں 
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ 
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں۔

You might also like :- 
My Instagram account Zube.

Post a Comment