Contact me for Advertisement WhatsApp Follow Me!

Mir Taqi Mir Poetry

Mir Taqi Mir poetry weaves emotions into a tapestry of words that resonate forever in the human heart, Here we are sharing the best collection for you

 

Mir Taqi Mir Poetry

Mir Taqi Mir Poetry

Mir Taqi Mir poetry mesmerizing the hearts with its lyricism, takes the readers to the realm of deep emotions and timeless beauty.

Here we are sharing 60 best shayari collection which you can read and download images.


Mir Taqi Mir Poetry

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

Mir Taqi Mir Poetry

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

Mir Taqi Mir Poetry

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

Mir Taqi Mir Poetry

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

Mir Taqi Mir Poetry

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

Mir Taqi Mir Poetry

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ
کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

Mir Taqi Mir Poetry

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

Meer Taqi Meer Poetry

Mir Taqi Mir Poetry

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا ہی نہیں
اس عاشقی میں تو عزت سادات بھی گئی

Mir Taqi Mir Poetry

میر ان کی نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

Mir Taqi Mir Poetry

دل کی ویرانی کا کیا مزکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

Mir Taqi Mir Poetry

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا

Mir Taqi Mir Poetry

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

Mir Taqi Mir Poetry

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا

Mir Taqi Mir Poetry

اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی صورت
ہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پر

Mir Taqi Mir Poetry

کہتے تو ہو یوں کہتے یوں کہتے جو وہ آتا
یہ کہنے کی باتیں ہیں کچھ بھی نہ کہا جاتا

Mir Taqi Mir Poetry

ملنے کا وعدہ ان کے تو منہ سے نکل گیا
پوچھی جگہ جو میں نے کہا ہنس کے خواب میں

Mir Taqi Mir Poetry

اب کرکے فراموش تو ناشاد کرو گے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

Mir Taqi Mir Poetry in Urdu

Mir Taqi Mir Poetry

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یہاں کہ یاد رہو

Mir Taqi Mir Poetry

چمن میں گل نے کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Mir Taqi Mir Poetry

خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا

Mir Taqi Mir Poetry

بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھے ہیں انداز گفتگو کا

Mir Taqi Mir Poetry

جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے

Mir Taqi Mir Poetry

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا
قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

Mir Taqi Mir Poetry

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا

Mir Taqi Mir Poetry

اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا

Mir Taqi Mir Poetry

یوں ناکام رہیں گے کب تک جی میں ہے اک کام کریں
رسوا ہوکر مر جاویں اس کو بھی بدنام کریں

Mir Taqi Mir Ghazal

Mir Taqi Mir Poetry - Ghazal

بزم میں جو ترا ظہور نہیں

بزم میں جو ترا ظہور نہیں 
شمع روشن کے منہ پہ نور نہیں

کتنی باتیں بنا کے لاؤں ایک
یاد رہتی ترے حضور نہیں

خوب پہچانتا ہوں تیرے تئیں
اتنا بھی تو میں بے شعور نہیں

قتل ہی کر کہ اس میں راحت ہے
لازم اس کام میں مرور نہیں

فکر مت کر ہمارے جینے کا
تیرے نزدیک کچھ یہ دور نہیں

پھر جئیں گے جو تجھ سا ہے جاں بخش
ایسا جینا ہمیں ضرور نہیں

عام ہے یار کی تجلی میرؔ
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں

Mir Taqi Mir Poetry - Ghazal

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا

اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا

Mir Taqi Mir Poetry - Ghazal

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
پر تمامی عتاب ہیں دونوں

رونا آنکھوں کا روئیے کب تک
پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں

ہے تکلف نقاب وے رخسار
کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں

تن کے معمورے میں یہی دل و چشم
گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں

کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے
جگر و دل کباب ہیں دونوں

سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں
جیسے مست شراب ہیں دونوں

پاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیں
اب تو سرمست خواب ہیں دونوں

ایک سب آگ ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں

بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے
اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں

آگے دریا تھے دیدۂ تر میرؔ
اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں

Mir Taqi Mir Poetry

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ

اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
کیا پوچھتے ہو الحمدللہ

مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہے
کتنا ہے مغرور اللہ اللہ

پیر مغاں سے بے اعتقادی
استغفر اللہ استغفر اللہ

کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گا
ہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ

حضرت سے اس کی جانا کہاں ہے
اب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ

سب عقل کھوئے ہے راہ محبت
ہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ

مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ
کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ

کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں
اچھا رجھایا اے مہرباں آہ

گزرے ہے دیکھیں کیوں کر ہماری
اس بے وفا سے نے رسم نے راہ

تھی خواہش دل رکھنا حمائل
گردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ

اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب
ہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ

ہے ماسوا کیا جو میرؔ کہیے
آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ

جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی
کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ

ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ

Mir Taqi Mir Poetry

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا

کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر
جو ہماری خاک پر سے ہو کے گزرا رو گیا

کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں
کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہو کر جو گیا

مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں
ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا

میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا

Mir Taqi Mir Poetry

غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے

غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے
یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے

ہے طرفہ مفتن نگہ اس آئنہ رو کی
اک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے

نے بت کدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہ
جو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے

ہر صبح تو خورشید ترے منہ پہ چڑھے ہے
ایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے

یاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گلبرگ
ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے

ہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاں
دامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے

گریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہر
اک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے

مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں
نالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے

اس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارے
تو میرؔ وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے

Mir Taqi Mir Poetry

شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے

شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے
اس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے

سر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیا
فرہاد کے جہان سے جانے کو عشق ہے

اٹھیو سمجھ کے جا سے کہ مانند گرد باد
آوارگی سے تیری زمانے کو عشق ہے

بس اے سپہر سعی سے تیری تو روز و شب
یاں غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے

بیٹھی جو تیغ یار تو سب تجھ کو کھا گئی
اے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے

اک دم میں تو نے پھونک دیا دو جہاں کے تیں
اے عشق تیرے آگ لگانے کو عشق ہے

سودا ہو تب ہو میرؔ کو تو کریے کچھ علاج
اس تیرے دیکھنے کے دوانے کو عشق ہے

Mir Taqi Mir Poetry

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہے غزل میر یہ شفائی کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی

اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی

وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی

دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی

زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔ
کس بھروسے پر آشنائی کی

Mir Taqi Mir Poetry

کاش اٹھیں ہم بھی گنہگاروں کے بیچ

کاش اٹھیں ہم بھی گنہگاروں کے بیچ
ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ

جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا
کی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ

ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں
شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ

جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن
پڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ

عاشقی و بے کسی و رفتگی
جی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ

جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب
وہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ

اس کے آتش ناک رخساروں بغیر
لوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ

بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار
پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ

یارو مت اس کا فریب مہر کھاؤ
میرؔ بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ

Mir Taqi Mir Poetry

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا

یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت
زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا

تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے
جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا

میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی
آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا

غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے
بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا

مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی
گو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا

عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزری
بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا

دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر
بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا

کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے
قید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا

Mir Taqi Mir Poetry

کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو

کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو

شوق ہی شوق ہے نہیں معلوم
اس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو

خط سے نکلے ہے بے وفائی حسن
اس قدر تو سواد ہے ہم کو

آہ کس ڈھب سے روئیے کم کم
شوق حد سے زیاد ہے ہم کو

شیخ و پیر مغاں کی خدمت میں
دل سے اک اعتقاد ہے ہم کو

سادگی دیکھ عشق میں اس کے
خواہش جان شاد ہے ہم کو

بد گمانی ہے جس سے تس سے آہ
قصد شور و فساد ہے ہم کو

دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں
اور سب سے عناد ہے ہم کو

نامرادانہ زیست کرتا تھا
میرؔ کا طور یاد ہے ہم کو

Meer Taqi Meer

Meer Taqi Meer, one of the most famous Urdu poets of all eras, has left an indelible mark on the world of poetry with his excellent words. His words, laced with deep emotions and subtle images, are timeless and touch the depths of the human soul. Mir's poetry is a testament to his mastery, where every line rings with passion and desire and leaves the reader mesmerized by the sheer beauty of his art.

My YouTube channel.

Post a Comment